12 جون 2012 - 19:30

افغانستان ميں نيٹو اور امريکي افواج کي موجودگي کے خلاف افغان عوام اور حکام کي مخالفتوں اورمظاہروں کے باوجود نيٹو نے اعلان کيا ہے کہ وہ اس جنگ زدہ ملک ميں اپني موجودگي جاري رکھے گي-

ابنا: نيٹو کے سکريٹري جنرل اينڈرس راسموسن نے آسٹريليا کے دارالحکومت کينبرا ميں اپنے ايک بيان ميں کہا کہ افغانستان ميں تعينات غير ملکي افواج سن دوہزار چودہ کے بعدبھي موجود رہيں گي-

نيٹو کے سکريٹري جنرل نے يہ بيان ايک ايسے وقت ديا ہے  جب غيرملکي افواج کي موجودگي ہي افغانستان ميں بدامني اور پرتشدد واقعات کا سبب بني ہے اور علاقے کے امور کے ماہرين کا کہنا ہے کہ  افغانستان سے غيرملکي افواج کے انخلاء سے ہي اس ملک ميں امن و امان قائم ہوسکے گا -

افغانستان ميں دسيوں ہزار  بے گناہ انسانوں کا قتل عام ، منشيات کي پيداوار اور اسمگلنگ  ميں اضافہ ، بنيادي تنصيبات کي تباہي ، غيرملکي افواج کے ہاتھوں اسلامي مقدسات اور خود مسلمانوں کي تحقير و اہانت نيز افغان شہريوں کي لاشوں کي بے حرمتي اور ان کے جسم کے ٹکڑوں کو کاٹ کر ان سے کھيل تماشا کرنا يہ وہ سارے انسانيت سوز اقدامات ہيں جو افغانستان ميں تعينات غير ملکي افواج کے ہاتھوں انجام پارہے ہيں -

افغانستان کے ناراض اور مشتعل عوام نے بارہا مختلف شہروں ميں جلوس اور مظاہرے کرکے اپنےملک سے  قابض قوتوں کے انخلاء کا مطالبہ کيا ہے -

.......

/169